سعودی عرب میں پاکستانیوں کے داخلے اور وطن واپسی پر پابندی عائد


 سعودی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کے سعودی مملکت میں داخلے اور ان کی وطن واپسی پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک کے سفر پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ عرب نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے مزید ایسے ممالک جہاں کرونا کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے- اپنے شہریوں اور تارکین کے سفر پر ان ممالک کے سفر پر عارضی پابندی کر دی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے- ان میں پاکستان ، بھارت اور یورپی یونین کے کئی ممالک شامل ہیں۔اس پابندی کے بعد ان ممالک کے لیے پروازیں معطل کی جا رہی ہیں۔
پابندی شدہ ممالک میں پاکستان، انڈیا، سری لنکا، فلپائن افریقی ممالک ، سوڈان، اریٹریا، کینیا، جبوتی، سوڈان ، صومالیہ کے علاوہ یورپی یونین کے کئی ممالک اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔
اس سے قبل سعودی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر عمان، فرانس، جرمنی، ترکی، سپین، امارات، کویت، بحرین، لبنان، شام، جنوبی کوریا، مصر، اٹلی اور عراق پر پابندی لگائی گئی تھی۔ جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے، ان ممالک کا کوئی بھی باشندہ براہ راست ہی نہیں کسی دوسرے ملک کے ذریعے بھی سعودی مملکت کا رخ نہیں کر سکتا۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان سمیت دیگر ممالک پر یہ پابندی سعودی وزارت صحت کی سفارشات پر لگائی گئی ہے کیونکہ مملکت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پابندی سے سعودیہ میں مقیم تارکین وطن اور مقامی افراد کو اس موذی وائرس کا شکار ہونے سے بچانے میں بڑی مدد ملے گی۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے خصوصی پروازوں کے ذریعے متحدہ عرب ، امارات اور بحرین میں مقیم اپنے شہریوں کو 72 گھنٹے کے اندر وطن واپسی کی مہلت دی ہے۔ جس کے بعد ان کی واپسی میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

باغیوں کی خانہ کعبہ میں داخل ہوکر سعودی حکومت پر قبضے کی کوشش



باغیوں نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر محمد بن سلمان کی حکومت کو ختم کرنا چاہا۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب میں 22سے زائد شہزادے گرفتار کئے گئے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ میں عائد کی جانے والی پابندیوں کا تعلق کسی خطرناک بیماری سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ان گرفتاریوں سے ہے۔

22 شہزادے گرفتار کرنے کے بعد بات اداروں تک پہنچ گئی۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے پلان کیا گیا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو کر اقتدار پر قبضہ کیا جائے ۔ اس سازش میں مغربی ممالک کے ساتھ کچھ اسلامی ممالک نے بھی باغیوں کا ساتھ دیا ۔ صابر شاکر نے ایک بار پھر سے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ایک آپریشن کے بعد اسے آزاد کرایا گیا جس میں پاکستانی افواج نے بھی حصہ لیا۔
یہ بات بھی قابل غور رہے کہ اس سےقبل بھی سعودی حکومت پر قبضہ کرنے کی خبر زیر گردش رہی تھی۔ سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں شہزادوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ان کے نخرے اُٹھانا مشکل ہو چکے ۔
تاہم محمد بن سلمان کے اپنے خاندان کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں ، جو تمام شہزادوں کی عیاشیاں ختم کررہے ہیں ۔ محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کو اوپن مارکیٹ بنایا جائے اور کفیل کا نظام بھی ختم کیا جائے ۔ پٹرول پر انحصار کو کم کررہے ہیں۔ مبشر لقمان نے کہا کہ 2017میں محمد بن سلمان نے اپنے کزن محمد بن نائف سے ولی عہد کا عہدہ لیتے ہوئے ان کا ہاتھ بھی چوما۔
مبشر لقمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ شاہی خاندان کے کئی افراد کو گرفتار کرانے کا مقصد خود کو طاقتور ظاہر کرنا تھا ۔ محمد بن سلمان کو اس بات کا ڈر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ الیکشن میں ہا ر گئے تو ڈیموکریٹک پارٹی میں ان کو وہ حمایت حاصل نہیں ہوگی، جس سے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دبئی کے شیخ محمد نے بیٹیوں کو اغوا کیا، برطانوی ہائی کورٹ, بیوی کو دھمکایا،



دبئی کے ارب پتی حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم پر ان کی سابقہ اہلیہ شہزادی حیال بنت الحسین کی طرف سے لگائے جانے والے وہ الزامات ہیں جو جمعرات کو برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ میں درست قرار پائے اور سلسلہ وار شائع کیے گئے۔اغوا، مرضی کے خلاف واپس لے جانا، تشدد اور دھمکانے کی مہم۔ 
عدالت نے آٹھ ماہ پہلے شروع ہونے والے اس مقدمے کا فیصلہ شہزادی حیا کے حق میں سنایا جو گزشتہ برس اپنے دو بچوں کے ساتھ دبئی سے فرار ہو کر لندن پہنچی تھیں۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔
شیخ محمد نے اس مقدمے کے فیصلے کی اشاعت پر پابندی لگوانے کی کوشش کی تھی لیکن عدالت نے اسے عوامی مفاد میں قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ دبئی کے حکمران کے بارے میں کہا گیا کہ ’انہوں نے عدالت کے سامنے پورا سچ نہیں بولا۔‘
عدالت نے گواہوں کے بیانات سننے کے بعد قرار دیا کہ شیخ محمد اپنی ایک اور شادی سے دو بیٹیوں کے اغوا اور جبری دبئی واپسی کے ذمہ دار ہیں۔
شیخہ شمسہ برطانیہ کے علاقے سرے میں اپنی خاندانی رہائشگاہ سے سن 2000 میں فرار ہوئی تھیں لیکن انھیں شیخ کے ایجنٹوں نے کیمبرج شائر میں پکڑ لیا اور بیہوش کر کے دبئی لے گئے جہاں وہ اب بھی اپنی مرضی کے خلاف رہ رہی ہیں۔ کیمبرج شائر پولیس کی طرف سے ان سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی-
 شیخہ لطیفہ نے سن 2002 اور 2018 اپنے والد کے خاندان سے فرار ہونے کی ناکام کوششیں کیں۔ پہلی کوشش کے بعد ان کے والد نے انہیں تین سال تک دبئی میں قید رکھا۔ دوسری کوشش کے دوران انہیں انڈیا کی ساحلی حدود کے قریب سے پکڑا گیا تھا , اور وہ اس کے بعد سے دبئی میں اپنے گھرمیں نظر بند ہیں۔ جج نے شیخ لطیفہ کی طرف سے ایک وڈیو میں لگائے گئے الزامات کو درست قرار دیا۔ جج نے کہا کہ شیخ محمد کی حکومت میں ان دونوں خواتین کی آزادی چھین لی گئی ہے۔


بھارت کی جانب سے چین سے پاکستان آنیوالے بحری جہاز کو پکڑنے پر چینی وزارت خارجہ کاردعمل



بھارت کی جانب سے چین سے پاکستان آنے والے بحری جہاز کو پکڑنے پر چینی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ چین نے ان اطلاعات کا جائزہ لیا ہے - ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کے طور پر چین سختی سے ایٹمی عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریاں اور بین الاقوامی شرائط پر عمل کر رہا ہے-


ترجمان چینی دفتر خارجہ نے کہا کہ معلومات کے حصول کے بعد ہمیں علم ہوا ہے کہ یہ چیز اصل میں دل کے علاج کے لیے ایک ہارٹ ٹریٹمنٹ فرنس شیل سسٹم ہے - یہ سسٹم ایک چینی کمپنی چین میں تیار کرتی ہے - ترجمان نے کہا کہ یہ فوجی استعمال کے لیے ہے نہ ہی ایٹمی عدم پھیلاو اور ایکسپورٹ کنٹرول کے تحت دوہرے استعمال کے لیے،چینی تجارتی جہاز اور اس کے مالکان نے اس سے پہلے ہی پوری سچائی سے بھارتی انتظامیہ کو بتا دیا تھا - ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ لہزا نہ کوئی غلط بیانی کی گئی نہ ہی کوئی بات چھپائی گئی-

ایرانی پارلیمنٹ پر کرونا وائرس کا حملہ- کتنے اراکین وائرس کا شکار ہو گئے ؟ تشویشناک خبر آگئی




ایران میں کرونا وائرس نے اراکین پارلیمنٹ کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا اور اب   تک 23اراکین کرونا وائرس میں مبتلاہو گئے ہیں۔بگڑتی ہو ئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی فورسز کو   مہلک وائرس سے نمٹنے کے لیے وزارت صحت کے ساتھ تعاون کا حکم دے دیا ہے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایران میں مجموعی طور   پر اب تک 2336 افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جب کہ وہاں ہلاکتوں کی  تعداد 77 ہے ۔ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر نے سرکاری میڈیا کو بتایا ہے کہ 23 اراکین کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔دوسری جانب آیت اللہ خامنہ ای کے حکم کے بعد 3 لاکھ فوجیوں کی خدمات حاصل   کی جائیں گی۔ایرانی وزارت صحت کی جانب سے ملک بھر میں بڑا طبی آپریشن بھی شروع کردیا  گیا ہے جس کے تحت چھوٹے بڑے علاقوں میں سپرے اور دیگر احتیاطی تدابیر   استعمال کی جائیں گی۔

دہلی فسادات میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے مسلمانوں کا قتل عام




بھارتی نے انکشاف کیا ہے کہ نئی دہلی فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام پہلے سے ہی منصوبے کا حصہ تھا نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کا ایک منظم کھیل کھیلا گیا- بھارتی صحافی رعنا ایوب نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام پہلے سے ہی منصوبے کا حصہ تھا جس میں پولیس انتہا پسندوں اور بلوائیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ مسلمانوں کا قتل عام کریں-
انہوں نے کہا کہ سال (2002) میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی زیرنگرانی ریاست گجرات میں ایک ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا اور آج بھی اسی مودی کی زیر نگرانی بھارت میں مسلمانوں کا منظم طریقے سے قتل عام کیا جا رہا ہے. رعنا ایوب نے کہا کہ مسلم خاندان اپنی جانوں کو بچا کر دوسری جگہوں پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور کئی مسلم خواتین کی عزتیں انتہا پسندوں نے پامال کیں جبکہ مذہبی نعرے لگاتے ہوئے مساجد کو بھی تباہ کیا گیا.
بھارتی صحافی نے مسلم کش فسادات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت دورے سے بھی جوڑارعنا ایوب نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب نئی دلی میں قتل و غارت ہورہی تھی اس دوران ملک کا وزیر داخلہ نفرت انگیز تقاریر کر رہا تھا-بھارتی صحافی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اتنا بڑا سانحہ ہو گیا لیکن بھارتی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا.
دوسری جانب اقوام متحدہ نے شہریت سے متعلق متنازع قانون کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال اور فرقہ وارانہ فسادات پر بھارتی سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی ہے-اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے حقوقِ انسانی مچل بچلیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں متنازع قانون کے نتیجے میں ہونے والے فسادات پر بھارتی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے‘بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمیشن نے جنیوا میں برطانوی حکام کو آگاہ کردیا ہے.اقوام متحدہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا ہے کہ شہریت کا قانون بھارت کا داخلی معاملہ ہے کسی غیر ملکی فریق کو بھارت کی مقامی عدالت میں درخواست دے کر معاملے میں مداخلت کا حق نہیں.بھارتی وزیر داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ شہریت کا قانون سی اے اے آئینی طور پر درست ہے۔
قانون ہمارے آئینی اقدار کی تمام ضروریات کی تعمیل کرتا ہے ترجمان رویش کمار کا کہنا ہے کہ قانون تقسیم ہند کے سانحے سے پیدا ہونے والے انسانی حقوق کے بارے میں ہماری دیرینہ قومی وابستگی کا عکاس ہے.خیال رہے کہ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف بھارت بھر میں احتجاج کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے حالیہ دنوں دارالحکومت نئی دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ہونے والے فسادات میں 46 افراد مارے گئے تھے جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں برطانیہ کے قائد حزب اختلاف جریمی کوربن نے بھی دہلی میں ہونے والے قتل عام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حق کے لیے مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں-ہندو اکثریت والے ملک بھارت میں دیگر اقلیتوں کیساتھ مسلمانوں کی زندگی بھی اجیرن بنا دی گئی ہے‘ہندوبلوائیوں نے پولیس کی مدد سے مسلمانوں کے گھر نذرآتش کیئے اور اربوں روپے مالیت کی املاک کو لوٹ کرجلادیا گیا‘بی جے پی کے وزیر کپل مشرا نے امن مارچ کا ڈھونگ رچانے کوشش کی جو کامیاب نہیں ہوسکی کپل شرما کے حمایتیوں نے صحافیوں کو بھی دھمکیاں دی ہیں.کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں سونیا گاندھی نے نئی دہلی میں ہلاکتوں کا ذمہ دار وزیراعظم مودی کو ٹھہرایا ہے اور فوج بلانے کا مطالبہ کیا-


پاکستان کا برطانیہ کو خط - پردیسیوں کی وطن واپسی کا کہا گیا ہے-




فردوس عاشق اعوان کے مطابق نواز شریف کی پاکستان واپسی کی چٹھی لکھ دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف کے سہولت کار شہباز شریف سے درخواست کی گئی ہے کہ اپنے وعدے کے مطابق نواز شریف کو واپس لائیں

میں خون پسینے کی کمائی فضول کام میں نہیں لگا رہا بلکہ۔۔۔


پی ایس ایل میں لاہور قلندر کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے ٹیم کے مالک فواد رانا کو سوشل میڈیا پر تنقید اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنقید ان کی ذات پر نہیں کی جاتی بلکہ ٹیم انتظامیہ، کھلاڑیوں اور اس کی کارکردگی پر کی جاتی ہے اور فواد رانا کیساتھ محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے جس کا وہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہوئے شائقین کرکٹ کی محبت پر ان کا شکریہ ادا بھی کرتے ہیں۔

اس سال بھی پی ایس ایل میلے میں لاہور قلندر اپنے تینوں میچ ہار چکی ہے لیکن فواد رانا پرامید ہیں کہ ان کی ٹیم کم بیک کرے گی۔ فواد رانا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں لکھا -بہت افسوس ہوتا ہے جب لوگ کہتے ہیں لگتا ہے حرام کی کمائی ہے۔ الحمدللہ محنت کی کمائی ہے اور کسی فضول کام میں نہیں لگارہا. الحمد للہ اپنے ملک کیلئے لگارہا ہوں-.


محکمہ موسمیات نے ایک بار پھر بارش کی پیش گوئی کردی ،پی ایس ایل (PSL) میچز متاثر ہونے کا خدشہ


محکمہ موسمیات نے ملک میں بدھ سے ہفتہ تک بارشوں کی پیشگوئی کر دی جس سے پی ایس ایل میچز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش برسانے والا نیا سسٹم بدھ 4 مارچ سے وسطی اور بالائی پنجاب میں داخل ہونے کا امکان ہے۔