کرونا وائرس جب پاکستان پہنچا تو ہماری حکومت کی کارکردگی دیکھ کر وہ بھی شرمندہ ہو گیا-



وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان تحریک انصاف خصوصا عمران خان پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں۔ اس بار انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو کروناوائرس کی بنیاد پرتنقید کا نشانہ بنایاہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کئے گئے ایک تبصرے میں ریحام خان نے کہا کہ ”پوری دنیا میں تباہی پھیلانے والا کرونا وائرس جب پاکستان پہنچا تو ہماری حکومت کی کارکردگی دیکھ کر وہ بھی شرمندہ ہو گیا اور کہنے لگا "سلیکٹڈ تم بھی کچھ تو کرو نا"۔

ریحام خان کا ٹویٹ ہو اور سوشل میڈیا صارفین اس پرتبصرہ نہ کریں ایسا ممکن ہی نہیں۔لوگوں کی بڑی تعداد نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک بھی اس وبا سے نہیں بچ سکے تاہم اس کے باوجود پاکستان کے حالات بہتر ہیں۔
ایک صارف نے تو انہیں کرونا وائرس کا پاکستان میں’ ترجمان‘ قرار دے دیا۔
 
خیال رہے کہ ملک بھر میں اس وقت کرونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی ہے جن میں سے گلگت بلتستان میں 3،کراچی سمیت سندھ میں 16، اسلام آباد میں 2 جب کہ کوئٹہ میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔اس ضمن میں وفاقی و صوبائی حکومتیں مختلف اقدامات اٹھا رہی ہیں۔

سونے کی قیمت میں 3500 روپے فی تولہ کمی



سونے کی قیمت میں حیران کن کمی دیکھنے میں آئی ہے۔گزشتہ کچھ عرصے میں سونے کی قیمت میں اس قدر اضافہ یا کمی دیکھنے میں نہیںآ ئی تھی- تفصیلات کے مطابق سونے کی قیمت میں 3500 روپے فی تولہ کی کمی آئی ہے جو کہ حالیہ دور میں حیران کن اور سب سے زیادہ کمی بتائی جا رہی ہے۔نئی قیمتوں کے مطابق ایک تولہ سونے کی قیمت 94500 روپے جبکہ 10 گرام کی قیمت 74267 روپے ہو گی ۔

عمران خان کو اقتدار میں آئے ہوئے تقریباََ 18 مہینے سے زیادہ کا وقت گزرچکا ہے۔ جب سے پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے ، مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میںآ یا ہے۔سونے کی قیمتوں نے بھی آسمان کی بلندیوں کو چھوا ہے جس کے بعد سونہ خریدنا عام عوام کے بس کی بات نہیں۔اس بڑھتی ہوئی قیمت نے کئی لوگوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اب اپنی بیٹیوں کی شادیوں میں اپنی خواہش کے مطابق سونہ نہیں دے پاتے۔

لیکن بڑھتی ہوئی قیمت کے بعد اب ایک ہی دن میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے بعد عوام کو ریلیف ملے گا۔سونے کی قیمت میں 3500 روپے فی تولہ کی کمی آئی ہے ۔عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی اس کے اثرات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین قیمتوں کے مطابق خالص 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 94 ہزار 500روپے ہو گی جبکہ 10گرام سونے کی قیمت 72 ہزار267 روپے ہو گی۔
عالمی منڈی میں کسی بھی چیز کی قیمت کم ہوتی ہے تو پاکستا ن کی مارکیٹ میں اس کے بہت سنگین اثرات آتے ہیں۔پٹرول ہو یا سونہ، عالمی منڈی کے ریٹس کے مطابق قیمتیں زیاد ہ کم ہوتی رہتی ہیں۔اس بار بھی یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمت کم ہونے کی وجہ سے سونے کی قیمت میں ایک ہی دن میں 3500 روپے کی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 94 ہزار 500روپے ہو گی جبکہ 10گرام سونے کی قیمت 72 ہزار267 روپے ہو گی۔

کورونا : بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ



کورونا وائرس کے سبب بنگلادیش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کردیا گیا۔

 بنگلادیش میڈیا کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے کورونا وائرس کے پیش نظر ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث تیسرے مرحلے کے تمام میچز منسوخ ہوگئے ہیں - واضح رہے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم کو 29 مارچ کو کراچی پہنچنا تھا- 30 اور 31 مارچ کو پریکٹس سیشن تھا جب کہ یکم اپریل کو واحد ایک روزہ میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جانا تھا۔

اس کے بعد 2 تا 4 اپریل کو پھر ٹیم پریکٹس سیشن تھا اور 5 تا 9 اپریل آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دوسرا میچ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جانا تھا۔خیال رہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے باعث پاکستان سپر لیگ کے کراچی میں ہونے والے بقیہ تین میچز اور ایک پلے آف بھی بغیر شائقین کرانے کا اعلان کیا ہے۔

انگلینڈ نے سری لنکا کے ساتھ ٹیسٹ سیریز منسوخ کردی



برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے فیصلہ سامنے آنے کے بعد سری لنکا میں موجود انگلینڈ کے تمام کھلاڑی اور اسٹاف فوری طور پر انگلینڈ واپس روانہ ہوگا- انگلش بورڈ نے موجودہ صورتحال پر ساتھ دینے پر سری لنکن کرکٹ بورڈ سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہم سیریز کو پورا کرنے کے لیے مستقبل قریب میں سری لنکا واپسی کا فیصلہ کریں گے۔

واضح ر ہےکہ انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز گالے میں 19 مارچ سے شروع ہونا تھی۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث بھارت میں انڈین پریمیئر لیگ بھی منسوخ کردی گئی ہے جب کہ بنگلا دیش کی ٹیم نے دورہ پاکستان منسوخ کردیا ہے، اس کے علاوہ کراچی میں ہونے والے پی ایس ایل کے مزید  میچوں کو بغیر تماشائیوں کے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ موخرکردیا لیکن کیوں؟


حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ موخر کردیا گیا۔ قیمتوں میں کمی کا فیصلہ موخر کرنے کی وجہ دراصل سٹیٹ بنک کی ڈالر کی قدر سے متعلق رپورٹ جمع نہ ہونا ہے جس کی روشنی میں قیمتیں طے کی جانا تھیں۔
نجی ٹی وی 92نیوز کے مطابق پاکستان میں جو مال بن رہا تھا وہ اب باہر نہیں جارہا اس لئے ڈالرزکی آمدبھی کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے کا فائدہ پاکستان کو نہیں مل سکے گا کیونکہ یہاں ڈالر کی قدر بڑھ چکی ہے۔
یاد رہے آج حکومت کی جانب سے تیل کی قیمت میں بار ہ سے اٹھارہ روپے فی لٹر تک کمی کا امکان تھا۔
اس حوالے سے سٹیٹ بنک نے ایک رپورٹ جاری کرنا تھی تاہم سٹیٹ بنک کی جانب سے ڈالر کی قدر سے متعلق رپورٹ جمع نہ ہوناقیمتوں میں کمی میں تاخیر کی وجہ بن گئی۔ اس حوالے سے اوگرا نے بھی سپلائی اور قیمت کی سطح کے حوالے سے رپورٹ دینی تھی لیکن وہ بھی جمع نہیں کراسکی جس کی وجہ سے حکومت کو فیصلہ موخر کرنا پڑا-
ممکن ہے کہ آئندہ 24سے48گھنٹوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیاجائے تاہم اس بارے اندازہ لگانا مشکل ہے کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں کتنی کمی کرسکتی ہے۔

صوفیہ کیف کی وزیراعلیٰ ہاﺅس میں ٹک ٹاک ویڈیو، گلوکارہ کیا کہہ کر اندر گئیں تھیں ؟

شاہ اور صندل خٹک کے بعد اب ایک گلوکارہ بھی سرکاری عمارت میں ویڈیو بنانے کے بعد تنازع کی زد میں آ گئیں ہیں- 

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر پشتو گلوکارہ صوفیہ کیف کی وزیراعلیٰ ہاﺅس خیبر پختون خواہ میں ٹک ٹاک وائر ل ہو رہی ہے جس کے باعث صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا سامنا ہے ، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلوکارہ نے لال رنگ کا جوڑا زیب تن کررکھا ہے جبکہ وہ ہال میں ویڈیو بناتے ہوئے دروازے سے داخل ہوتی ہیں جہا ں عملے کا ایک آدمی دروازہ بھی کھولتا ہے ۔
اب اس حوالے سے تفصیلات سامنے آتی جارہی ہیں کہ گلوکارہ سی ایم ہاﺅس کے لان میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کیلئے گئیں تھیں اور وہاں سے وہ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کیلئے ہال میں داخل ہوئیں ۔اس معاملے پر مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ صوفیہ کیف سی ایم ہاﺅس میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں آئیں تھیں ، پروگرام لان میں رکھا گیا تھا تاہم انہوں نے بیت الخلاءجاتے ہوئے ہال میں اپنی ویڈیو بنائی ۔


لاہور، نوجوان کی طالبات کے سامنے فحش حرکات


لاہور میں لڑکیوں کو سر عام ہراساں کرنے اور فحش حرکتیں کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا ہے, نوجوان لڑکے نے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں سرِعام فحش حرکات کرنا شروع کر دیں۔واقعے کی ویڈیو ایک لڑکے کی جانب سے شئیر کی گئی ہے جس کی دوست کے ساتھ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ کلاس لینے جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ دیگر طالبات بھی وہاں پر موجود تھیں۔
ویڈیو شئیر کرنے والے نوجوان کا کہنا ہے کہ یہ قابل مذمت واقعہ اس کی دوست کے ساتھ پیش آیا۔لاہور میں واقع یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے قریب دوپہر کے وقت ایک نوجوان نے سڑک کے عین درمیان موٹرسائیکل روک کر طالبات کے سامنے فحش حرکات شروع کر دیں،ویڈیو میں طالبات کی طرف سے موٹرسائیکل کا نمبر بھی بتایا گیا اور ان کی جانب سے شرمناک حرکات کرنے والے نوجوان کو لعن طعن بھی کی گئی۔
لڑکیوں کی جانب سے شور مچانے پر وہ باز نہ آیا۔ جب لڑکیوں نے کہا کہ ہم یہ ویڈیو بنا رہے ہیں تو اُس نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بنا لو میں بعد میں دیکھوں گا۔جب ہم نے سوسائٹی کو سیکورٹی گارڈ کو واقعے سے متعلق بتانے کے لیے بھاگیں تو وہ شخص بھی بھاگ گیا۔طالبات کا کہنا ہے کہ یہ واقعے آج ہمارے سامنے پیش آیا ہے تو کل کو کسی کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے۔
لہذا ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات آئندہ رونما نہ ہوں۔اگر عورتوں کو حقوق نہیں دے سکتے تو کم از کم عزت ہی دے دیں،عورت نہ تو گھر میں محفوظ ہے اور نہ گھر سے باہر۔سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور اسے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سے قبل بھی لاہور میں اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
اس سے قبل بھی ایسا ہی ایک واقعہ لاہور کے علاقہ ٹھوکر نیاز بیگ کے پاس پیش آیا تھا۔ جس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لاہور پولیس نے خاتون کی شکایت پر سرعام ''فحش حرکات'' کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ مشتبہ شخص کی شناخت طیب احمد کے نام سے ہوئی اور وہ رائیونڈ میں ویسٹ ووڈ کالونی کا رہائشی ہے۔علاوہ ازیں ایک ایسا ہی واقعہ ابوبکر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں بھی پیش آیا تھا۔

سعودی عرب میں پاکستانیوں کے داخلے اور وطن واپسی پر پابندی عائد


 سعودی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کے سعودی مملکت میں داخلے اور ان کی وطن واپسی پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک کے سفر پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ عرب نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے مزید ایسے ممالک جہاں کرونا کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے- اپنے شہریوں اور تارکین کے سفر پر ان ممالک کے سفر پر عارضی پابندی کر دی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے- ان میں پاکستان ، بھارت اور یورپی یونین کے کئی ممالک شامل ہیں۔اس پابندی کے بعد ان ممالک کے لیے پروازیں معطل کی جا رہی ہیں۔
پابندی شدہ ممالک میں پاکستان، انڈیا، سری لنکا، فلپائن افریقی ممالک ، سوڈان، اریٹریا، کینیا، جبوتی، سوڈان ، صومالیہ کے علاوہ یورپی یونین کے کئی ممالک اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔
اس سے قبل سعودی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر عمان، فرانس، جرمنی، ترکی، سپین، امارات، کویت، بحرین، لبنان، شام، جنوبی کوریا، مصر، اٹلی اور عراق پر پابندی لگائی گئی تھی۔ جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے، ان ممالک کا کوئی بھی باشندہ براہ راست ہی نہیں کسی دوسرے ملک کے ذریعے بھی سعودی مملکت کا رخ نہیں کر سکتا۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان سمیت دیگر ممالک پر یہ پابندی سعودی وزارت صحت کی سفارشات پر لگائی گئی ہے کیونکہ مملکت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پابندی سے سعودیہ میں مقیم تارکین وطن اور مقامی افراد کو اس موذی وائرس کا شکار ہونے سے بچانے میں بڑی مدد ملے گی۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے خصوصی پروازوں کے ذریعے متحدہ عرب ، امارات اور بحرین میں مقیم اپنے شہریوں کو 72 گھنٹے کے اندر وطن واپسی کی مہلت دی ہے۔ جس کے بعد ان کی واپسی میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

باغیوں کی خانہ کعبہ میں داخل ہوکر سعودی حکومت پر قبضے کی کوشش



باغیوں نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر محمد بن سلمان کی حکومت کو ختم کرنا چاہا۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب میں 22سے زائد شہزادے گرفتار کئے گئے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ میں عائد کی جانے والی پابندیوں کا تعلق کسی خطرناک بیماری سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ان گرفتاریوں سے ہے۔

22 شہزادے گرفتار کرنے کے بعد بات اداروں تک پہنچ گئی۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے پلان کیا گیا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو کر اقتدار پر قبضہ کیا جائے ۔ اس سازش میں مغربی ممالک کے ساتھ کچھ اسلامی ممالک نے بھی باغیوں کا ساتھ دیا ۔ صابر شاکر نے ایک بار پھر سے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ایک آپریشن کے بعد اسے آزاد کرایا گیا جس میں پاکستانی افواج نے بھی حصہ لیا۔
یہ بات بھی قابل غور رہے کہ اس سےقبل بھی سعودی حکومت پر قبضہ کرنے کی خبر زیر گردش رہی تھی۔ سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں شہزادوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ان کے نخرے اُٹھانا مشکل ہو چکے ۔
تاہم محمد بن سلمان کے اپنے خاندان کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں ، جو تمام شہزادوں کی عیاشیاں ختم کررہے ہیں ۔ محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کو اوپن مارکیٹ بنایا جائے اور کفیل کا نظام بھی ختم کیا جائے ۔ پٹرول پر انحصار کو کم کررہے ہیں۔ مبشر لقمان نے کہا کہ 2017میں محمد بن سلمان نے اپنے کزن محمد بن نائف سے ولی عہد کا عہدہ لیتے ہوئے ان کا ہاتھ بھی چوما۔
مبشر لقمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ شاہی خاندان کے کئی افراد کو گرفتار کرانے کا مقصد خود کو طاقتور ظاہر کرنا تھا ۔ محمد بن سلمان کو اس بات کا ڈر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ الیکشن میں ہا ر گئے تو ڈیموکریٹک پارٹی میں ان کو وہ حمایت حاصل نہیں ہوگی، جس سے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دبئی کے شیخ محمد نے بیٹیوں کو اغوا کیا، برطانوی ہائی کورٹ, بیوی کو دھمکایا،



دبئی کے ارب پتی حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم پر ان کی سابقہ اہلیہ شہزادی حیال بنت الحسین کی طرف سے لگائے جانے والے وہ الزامات ہیں جو جمعرات کو برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ میں درست قرار پائے اور سلسلہ وار شائع کیے گئے۔اغوا، مرضی کے خلاف واپس لے جانا، تشدد اور دھمکانے کی مہم۔ 
عدالت نے آٹھ ماہ پہلے شروع ہونے والے اس مقدمے کا فیصلہ شہزادی حیا کے حق میں سنایا جو گزشتہ برس اپنے دو بچوں کے ساتھ دبئی سے فرار ہو کر لندن پہنچی تھیں۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔
شیخ محمد نے اس مقدمے کے فیصلے کی اشاعت پر پابندی لگوانے کی کوشش کی تھی لیکن عدالت نے اسے عوامی مفاد میں قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ دبئی کے حکمران کے بارے میں کہا گیا کہ ’انہوں نے عدالت کے سامنے پورا سچ نہیں بولا۔‘
عدالت نے گواہوں کے بیانات سننے کے بعد قرار دیا کہ شیخ محمد اپنی ایک اور شادی سے دو بیٹیوں کے اغوا اور جبری دبئی واپسی کے ذمہ دار ہیں۔
شیخہ شمسہ برطانیہ کے علاقے سرے میں اپنی خاندانی رہائشگاہ سے سن 2000 میں فرار ہوئی تھیں لیکن انھیں شیخ کے ایجنٹوں نے کیمبرج شائر میں پکڑ لیا اور بیہوش کر کے دبئی لے گئے جہاں وہ اب بھی اپنی مرضی کے خلاف رہ رہی ہیں۔ کیمبرج شائر پولیس کی طرف سے ان سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی-
 شیخہ لطیفہ نے سن 2002 اور 2018 اپنے والد کے خاندان سے فرار ہونے کی ناکام کوششیں کیں۔ پہلی کوشش کے بعد ان کے والد نے انہیں تین سال تک دبئی میں قید رکھا۔ دوسری کوشش کے دوران انہیں انڈیا کی ساحلی حدود کے قریب سے پکڑا گیا تھا , اور وہ اس کے بعد سے دبئی میں اپنے گھرمیں نظر بند ہیں۔ جج نے شیخ لطیفہ کی طرف سے ایک وڈیو میں لگائے گئے الزامات کو درست قرار دیا۔ جج نے کہا کہ شیخ محمد کی حکومت میں ان دونوں خواتین کی آزادی چھین لی گئی ہے۔